19 فروری 2012 - 20:30

پاکستان اور افغانستان میں سرگرم طالبان دہشت گرد نام نہاد جہاد کے نام پر چوری، ڈکیتی، تاوان اور اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہیں، طالبان قتل و غارت کے ہولناک جرائم میں ملوث ہیں۔

ابنا:  طالبان قتل و غارت کے ہولناک جرائم میں ملوث ہیں۔اخبار کے مطابق ہائي پروفائل شخصيات کے اغوا برائے تاوان نے پاکستاني طالبان کيلئے نئے وسائل مہيا کرديئے،طالبان کے اہداف امير ترين صنعت کار، ماہرين تعليم، مغربي امدادي کارکن اور فوجي افسران کے رشتہ دار ہيں،2010ميں474 اور2011ميں467اغوا برائے تاوان کے واقعات پيش آئے،تاوان کي مد ميں5لاکھ سے 2.2ملين ڈالر تک کا مطالبہ کيا جاتا ہے،جنرل ميجر طارق مجيد کے داماد کے بدلے اغوا کاروں نے 153قيديوں کو چھوڑنے اور1.4ملين ڈالر کا تقاضا کيا ،ايک اين جي او نے اپنے چار کارکنوں کو چھڑانے کيلئے طالبان کو دو لاکھ50ہزار ڈالر ادا کيے۔

طالبان دہشت گرد خودکش بمبار کو ياد یقین دلاتے ہیں کہ وہ عوامی اجتماعات میں بےگناہ افراد کو قتل کرنے کے بعد سیدھا جنت میں چلا جائےگا۔ايک پنجابي نوجوان تاجرنے گزشتہ برس طالبان کے خفيہ سيل ميں اپنے ساتھ پيش آنے والي غير انساني سلوک کي دل ہلا دينے والي صوت حال بتائي.

اغوا کار نيکي اور انساني مہربانيوں کي آڑ ميں دھوکہ ديتے ہيں ليکن ان کے سفاکانہ ارادے شک سے بالا ہيں اس نے اپني پہچان نہ ظاہر کرنے پر بتايا کہ وہاں چار نو عمر خود کش حملہ آورزير تربيت تھے.وہ بچے صبح کلاسز ليتے اور دوپہر کودھماکہخيز مواد سے اڑانے کي تربيت حاصل کرتے تھے،ان کو يہ باور کرايا جاتا کہ ايک بٹن دبانے سے آپ جنت ميں چلے جائيں گے.

اخبار کے مطابق پاکستان ميں اغوا صديوں پراني لعنت ہے .80کي دہائي ميں مسلح گينگز کا نشانہ کراچي کے بزنس خاندان تھے .حاليہ سالوں ميں قومي سطح پران واقعات کے مختلف اعدادوشمار سامنے آتے رہے. وزارت داخلہ کے مطابق2010ميں474 اور2011ميں467اغوا برائے تاوان کے واقعات پيش آئے ہیں جن میں طالبان بڑے پیمانے پر ملوث ہیں ، واضح رہے کہ اندرونی طور پر طالبان کو امریکہ اور سعودی عرب اور قطر کی پشتپناہی بھی حاصل ہے ذرائع کے مطابق طالبان دہشت گرد مذکورہ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے بغیر دم نہیں ہلاک سکتے  طالبان کو پیشرفتہ خودکش جیکٹس مغربی اور عربی خفیہ ادارے فراہم کررہے ہیں ورنہ طالبان کے پاس تو خودکش بم بنانے کا کوئي کارخآنہ موجود نہیں ہے۔.........

/169